کالج کی کینٹین میں گرمی کی ایک دوپہر تھی۔ زید اور مریم اپنے معاشیات کے امتحان کی تیاری کر رہے تھے۔ زید نے تیزی سے پانی کا گلاس پیا اور لمبی سانس لی۔ "مریم، کیا تمہیں معلوم ہے کہ اس وقت اس پانی نے میری پیاس بجھا کر مجھے جو تسکین دی ہے، معاشیات کی زبان میں اسے کیا کہتے ہیں؟" مریم نے مسکراتے ہوئے جواب دیا، "ہاں زید! اسے ہی 'افادہ' (Utility) کہتے ہیں۔ کسی بھی شے میں انسانی ضرورت کو پورا کرنے کی جو صلاحیت ہوتی ہے، وہ افادہ کہلاتی ہے۔"
زید نے اپنی کتاب کھولی اور کہا، "بالکل صحیح! 'افادہ کا تصور' صرف ضرورت پوری کرنے تک محدود نہیں ہے۔ اس کی تعریف یہ ہے کہ کسی چیز کی وہ قوت یا خاصیت جس سے کسی انسان کی خواہش کی تسکین ہو۔ لیکن یاد رہے، افادہ اور فائدہ مندی (Usefulness) دو الگ چیزیں ہیں۔ مثال کے طور پر، ایک بیمار شخص کے لیے کڑوی دوا میں افادہ تو ہے کیونکہ وہ اسے تندرست کرے گی، مگر شاید اسے پینا اسے اچھا نہ لگے۔"
مریم نے زید کی بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا، "زید، افادہ کی کچھ خصوصیات بھی ہیں۔ پہلی یہ کہ یہ ایک 'اضافی تصور' (Relative Concept) ہے۔ دیکھو، ابھی ہمیں اس پنکھے کی ضرورت ہے کیونکہ گرمی ہے، لیکن سردیوں میں اس کا افادہ ختم ہو جائے گا۔ اسی طرح، ساحل سمندر پر ریت کا افادہ کم ہے، لیکن جب وہی ریت تعمیراتی جگہ پر پہنچتی ہے تو اس کا افادہ بڑھ جاتا ہے۔ یعنی وقت اور جگہ کے بدلنے سے افادہ بدل جاتا ہے۔"
زید نے اپنی کافی کا کپ اٹھایا اور کہا، "اور یہ ایک 'نفسیاتی تصور' (Subjective Concept) بھی تو ہے۔ مجھے کافی پسند ہے، اس لیے مجھے اس میں زیادہ افادہ مل رہا ہے۔ ہو سکتا ہے تمہیں چائے پسند ہو، تو تمہارے لیے کافی کا افادہ کم ہوگا۔ یعنی افادہ ہر شخص کی پسند، عادت اور ذوق کے لحاظ سے مختلف ہوتا ہے۔ یہ کوئی ایسی چیز نہیں جسے ہم ترازو میں تول سکیں۔"
مریم نے ایک اہم نکتہ اٹھایا، "ایک اور بات، افادہ 'اخلاقی لحاظ سے غیر جانبدار' (Ethically Neutral) ہوتا ہے۔ معاشیات یہ نہیں دیکھتی کہ ضرورت اچھی ہے یا بری۔ ایک چھری کا افادہ باورچی کے لیے سبزی کاٹنے میں ہے، لیکن وہی چھری کسی غلط کام کے لیے بھی استعمال ہو سکتی ہے۔ افادہ صرف ضرورت کی تسکین دیکھتا ہے، اخلاقیات نہیں۔"
اگلے دن، وہ دونوں کالج کے قریب ایک بڑھئی کی دکان کے پاس سے گزرے۔ زید رک گیا اور بولا، "مریم، دیکھو! یہ 'شکلی افادہ' (Form Utility) کی بہترین مثال ہے۔ اس بڑھئی نے لکڑی کے کندے کو تراش کر ایک خوبصورت کرسی بنا دی ہے۔ جب کسی شے کی شکل یا ساخت بدل کر اس کی افادیت بڑھائی جائے، تو اسے شکلی افادہ کہتے ہیں۔"
مریم نے سڑک کنارے لدے ہوئے آموں کے ٹرک کو دیکھ کر کہا، "اور وہ دیکھو 'مقامی افادہ' (Place Utility)۔ یہ آم باغات میں تھے تو وہاں ان کا افادہ کم تھا، لیکن اب جب یہ شہر کی مارکیٹ میں پہنچ گئے ہیں تو ان کا افادہ بڑھ گیا ہے۔ جگہ کی تبدیلی سے پیدا ہونے والا افادہ کتنا دلچسپ ہے نا؟"
کالج پہنچ کر انہوں نے اپنے پروفیسر صاحب کا لیکچر سنا۔ کلاس کے بعد مریم نے کہا، "زید، پروفیسر صاحب کی تعلیم اور ڈاکٹر کا علاج 'خدماتی افادہ' (Service Utility) کی مثالیں ہیں۔ جب معاشرے کے مختلف پیشہ ور افراد اپنی خدمات کے ذریعے ہماری ضرورتیں پوری کرتے ہیں، تو ہم اسے خدماتی افادہ کہتے ہیں۔"
زید نے اپنا نیا اسمارٹ فون نکال کر ایک ایپ کھولی اور کہا، "اور یہ دیکھو 'علمی افادہ' (Knowledge Utility)۔ جب میں نے یہ فون لیا تھا تو مجھے اس کے فیچرز کا علم نہیں تھا۔ لیکن جیسے جیسے میں نے اسے استعمال کرنا سیکھا، اس کا افادہ میرے لیے بڑھتا گیا۔ کسی شے کے بارے میں معلومات حاصل کرنے سے جو افادہ بڑھتا ہے، وہی علمی افادہ ہے۔"
گھر واپسی پر مریم نے ایک چھتری خریدی اور کہا، "اب جب میں نے یہ چھتری خرید لی ہے، تو اس کی ملکیت میرے پاس آگئی ہے، یہ 'ملکیتی افادہ' (Possession Utility) ہے۔ اور میں اسے بارش کے موسم کے لیے سنبھال کر رکھوں گی، جو 'وقتی افادہ' (Time Utility) بن جائے گا، کیونکہ وقتِ ضرورت اس کا افادہ بڑھ جائے گا۔" زید مسکرایا، "آج ہم نے افادہ کے تمام پہلو سمجھ لیے مریم!"